تو بہت دیر تک یہی سوچتا رہا کہ قصور کس کا ہے
امام کا، لوگوں کا،والدین کا یا دین کی نمائندہ جماعتوں کا ووٹ کے لیے لوگوں کو تو نکال لیا، دھرنوں کے لیے لوگ نکل آئے مگر مسجدوں میں لوگوں کی تعداد کیوں کم ہو گئی یا تقریباً اتنی ہی رہی، کہا کمی ہے
دین کی تبلیغ کی یا ہم میں شعور کی، دین کی تعلیم کی، یا، دین کی تعلیم دینے والوں کی یا دین کی تربیت کرنے والے والدین یا استاد کی یا دین کی نمائندہ جماعتوں کی جو لوگوں کو دین کے نام پر گھروں سے باہر سڑکوں پر دھرنوں میں لے آئی مگر مسجدوں میں نہ لا سکی۔
تو پھر میں سوچتا ہوں کہ قصور کس کا گردانہ جائے
مسجدوں کو دیدہ زیب سے دیدہ زیب تر، ایک دوسرے سے بڑھکر اور برقی قمقموں کی سجاوٹ خوب تر سےخوبصورت ،نقاشی کے عمدہ نمونوں سے آراستہ، رنگ وروغن کے چار چاند لگاتے جا رہے ہیں مگر ہم لوگوں کے دلوں کو دین سے منور نہیں کر پا رہے ،لوگوں کی اور اپنی اگلی نسل کی تربیت دین پر نہیں کر پا رہے ۔یہاں تک کہ ہم نے مسجدوں کو بانٹ لیا ہے۔ محلوں کی مسجد، تیری میری مسجد، برادریوں کی مسجد، مسلک کی مسجد جبکہ
ہمیں حکم ہے کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں مگر ہم مسجدیں بانٹ رہیں ہیں ہمیں حکم ہے ایک امام کی پیروی کرنے کا مگر ہم امام بانٹ رہے ہیں،ہمیں حکم ہے کہ آپس میں اتفاق،اتحاد سے رہنے کا مگر ہم تو نمازی ہی بانٹ رہیں ہیں،
ہمیں حکم ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مگر ہم دین بانٹ رہیں ہیں ،ہمیں حکم ہے محبت بانٹنے کا مگر ہم نفرتیں بانٹ رہیں ہیں،ہمیں حکم ہے دلوں میں چاہت پیدہ کرنے کا مگر ہم دلوں میں کدروت پیدہ کر رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں مگرہم دین کے نام پر بھائی بھائی بانٹ رہیں ہیں ۔ہمیں حکم ہے مل جل کر رہنے کا، مگر ہم آپس کا سکون بانٹ رہیں ہیں،ہم ایک دوسرے کی بات کو سننے جاننے کے لیے تیار نہیں،ہم خود کو دوسرے سے برتر سمجھنے کی کوششوں میں کوشاں ہیں ۔ہم میں برداشت ختم ہو چکی ہے ۔ہم دین کی بات کو پہلی بات سننے کے لیے تیار نہیں اگر سن لیں تو عمل کے لیے تیار نہیں،مفل میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں کتنے لوگ ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہو تو جگہ کم پڑ جاتی ہے اگر مسجد سے باہر پنڈال سجایا جائے تو تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں، مگر عام روٹین میں مسجد میں لوگ کم کیوں رہ جاتے ہیں ۔
میری سوچ کا محور رکنے کا نام نہیں لیتا، میری سوچ کا محورگھوم پھر کر اسی جگہ اٹک جاتا ہے کہ کس کا قصور ہے، قصور دیکھنے بیٹھوں تو سب کاہی حصہ نظر آتا ہے۔ میرا ،آپ کا ،سب کا۔
ہم پریشان حال ہیں۔طرح طرح کی مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں، ظلم کی چکی میں پیستے جا رہیں ہیں، اور جب تک ہم اپنی زندگی کو ڈھنگ سے نہیں گزاریں گے اسلام کے اصولوں کو نہیں اپنائیں گے، ہم یونہی دربدر،میصبتوں بھری غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے ۔
ابھی بھی وقت ہے خود کو سنبھالنے کا،ابھی بھی وقت ہے خود کو اپنی منزل کی طرف لیکر جانے کا.
ابھی وقت ہے اپنے رستے کے تعین کا ،
سانگو
